اپنی انفرادیت برقرار رکھو!

اپنی انفرادیت برقرار رکھو!



عربی تحریر: مولانا ​محمد نعمان الدین ندوی

اردو ترجمہ : محمد خالد ضیا صدیقی ندوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


     ​اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {بے شک تمہاری کوششیں مختلف ہیں} (سورۃ اللیل: 4)۔ اور حدیث شریف میں ہے: «ہر شخص کے لیے وہی کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے»۔

      ​یہ حدیثِ مبارکہ انسانی صلاحیتوں، ٹیلنٹ اور استعداد کے تنوع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے خاص قسم کی قدرت اور صلاحیتیں عطا کی ہیں، لہذا اسے چاہیے کہ وہ انہیں پہچانے، دریافت کرے اور پھر انہیں نکھارنے اور چمکانے کی طرف متوجہ ہو۔۔۔ کیونکہ ہر انسان ہر کام کو اچھے طریقے سے نہیں کر سکتا، نہ ہر فن میں مہارت حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی ہر صنعت میں یکتا ہو سکتا ہے۔

    ​ایک حکیم کا قول ہے: "جو شخص ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو اس کے بس کا نہیں (یا اس کا مزاج نہیں)، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حجاز کی زمین میں سنگترہ اگانے کی کوشش کرے اور دمشق کے سرسبز باغوں (غوطہ) میں کھجور کے درخت لگانے کی تگ و دو کرے۔"

شاعر کہتا ہے:

​لڑائیوں کے لیے کچھ ہیرو ہی پیدا کیے گئے ہیں

اور دفاتر کے لیے کچھ خاص حساب داں اور کاتب ہوتے ہیں

    ​پس ہر فن کے اپنے مردِ میدان ہوتے ہیں، ہر مقام کی اپنی بات ہوتی ہے اور ہر صنعت کی اپنی ایک شکل ہوتی ہے۔ جس نے اپنے فن کے علاوہ کسی اور کام میں ٹانگ اڑائی، وہ عجیب و غریب (اور لغو) باتیں لایا؛ اس نے خود کو تھکایا، اپنی سوچ کو ضائع کیا اور اپنی ہیبت کھو دی۔ اگر وہ اسی کام کی طرف متوجہ ہوتا جس میں اسے مہارت ہے، تو اسے وہ سب مل جاتا جو اسے مطمئن کر دیتا اور وہ اس فن میں ایک مستند حوالہ بن جاتا۔

     ​لہذا، اپنے فن پر توجہ مرکوز کریں اور دیگر فنون کو ان کے ماہرین کے لیے چھوڑ دیں۔ ماہرینِ تربیت کہتے ہیں: "اپنا مقام متعین کرو۔"

      ​"حسان بن ثابتؓ اذان اچھی نہیں دے سکتے تھے کیونکہ وہ بلالؓ نہیں تھے، اور خالد بن ولیدؓ وراثت کے مسائل (فرائض) تقسیم نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ زید بن ثابتؓ نہیں تھے۔"

     ​انسان مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ ایک مخصوص کام سرانجام دے سکے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے: "اپنے آپ کو پڑھو، اور دیکھو کہ تم کیا پیش کر سکتے ہو؟"

      ​کامیابی کے بنیادی ستونوں میں سے پہلا ستون یہ ہے کہ انسان اس "موہبت" یا "ٹیلنٹ" کو پہچانے جو رب ذوالجلال نے اس کے اندر ودیعت کی ہے۔ ہر انسان کی قیمت وہ ہے جس میں اسے مہارت حاصل ہے۔ اللہ کی دی ہوئی "خاص صلاحیت اور ممتاز قدرت" کو دریافت کر لینا ہی شخصیت کی تعمیر، ذات کی تشکیل اور بلند مقامات تک پہنچنے کے راستے کی "پہلی اینٹ" یا "بنیادی پتھر" سمجھا جاتا ہے، بقول شاعر:

​انسان کی قیمت وہ ہنر ہے جس میں اسے کمال حاصل ہے

اور جاہل لوگ اہل علم کے دشمن ہوتے ہیں

    ​حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: «انسان کی قیمت وہ ہے جس میں وہ مہارت رکھتا ہے»۔ جاحظ اس علوی جملے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "اگر ہم اس کتاب میں صرف اسی ایک جملے پر واقف ہوتے، تو اسے کافی، شافی اور بے نیاز کر دینے والا پاتے؛ بلکہ یہ جملہ کفایت سے بڑھ کر اور مقصد کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔"

    ​حضرت علیؓ کے اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا علم، اس کی عبادت، اس کی سخاوت یا اس کا اخلاق ہی درحقیقت اس کی قیمت ہے؛ نہ کہ اس کی ظاہری صورت، لباس یا عہدہ و منصب۔

    قرآن کہتا ہے: {وہ ترش رو ہوا اور منہ پھیر لیا، اس لیے کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا} (عبس: 1-2)، اور {ایک مومن غلام (مشرک) آزاد مرد سے بہتر ہے، چاہے وہ تمہیں کتنا ہی بھلا لگے} (البقرہ: 221)۔

     ​انسان کی قیمت وہ مہارت ہے جس میں وہ اچھا ہے، چاہے وہ (ہنر) انسان کے پاس زیادہ ہو یا کم

​عالم کی قیمت اس کا علم ہے چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، شاعر کی قیمت اس کی شاعری ہے چاہے وہ اس میں کمال دکھائے یا اوسط درجے کا رہے؛ غرض ہر صاحبِ فن یا پیشہ ور کی قیمت لوگوں کے نزدیک صرف وہی فن یا پیشہ ہے۔ لہذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی قیمت بڑھانے کی کوشش کرے اور اپنے نیک عمل، علم، حکمت، قوتِ حافظہ، ذہانت، مطالعہ، محنت، تحقیق، کوشش اور فائدے کی تلاش کے ذریعے اپنی قدر و قیمت مہنگی کر لے۔ اسے چاہیے کہ اپنے عقل کو مہذب بنائے، ذہن کو جلا بخشے اور اپنی روح میں بلند پروازی اور نفس میں شرافت کی آگ روشن کرے، تاکہ اس کی قیمت گراں قدر اور بلند ہو جائے۔

     ​امام ابن قیمؒ کے نزدیک انسان کی قیمت اس کی "ہمت" ہے اور یہ کہ وہ کیا چاہتا ہے؟

     امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: "عوام کہتے ہیں کہ 'آدمی کی قیمت اس کا ہنر ہے'، جبکہ خواص کہتے ہیں کہ 'آدمی کی قیمت اس کی طلب (مقصد) ہے'۔"

​اے مجد و شرف کے طالب! تمھاری قیمت تمھارے عظیم مقاصد ، تمھاری اعلی صفات، تمھارے پاکیزہ اخلاق اور تمھارے عظیم کارناموں میں ہے؛ نہ کہ تمھاری اصل، تمھاری جڑوں یا تمھارے حسب و نسب میں۔ عنترہ کہتا ہے:

​اگر میں غلام ہوں تو کیا ہوا، میں کرم کے لحاظ سے سردار ہوں

اور اگر میرا رنگ سیاہ ہے، تو میرا اخلاق سفید (روشن) ہے

     ​تمہاری خوشی تمہاری معرفت، تمہاری دلچسپیوں اور تمہاری بلندیِ فکر میں ہے۔

       غربت، تنگدستی اور گمنامی کبھی بھی ترقی، بلندی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ نہیں رہی۔

       ​مبارکباد ہے اس کے لیے جس نے اپنی قیمت پہچانی، مبارکباد ہے اس کے لیے جس نے اپنی رہنمائی، جدوجہد اور شرافت سے خود کو خوش بخت بنایا، اور مبارکباد ہے اس کے لیے جس نے دوہری نیکی کی، دونوں حالتوں میں خوش رہا اور دونوں جہانوں میں کامیاب ہوا۔

     ​پس کامیابی اس کے لیے ہے جس نے اپنی صلاحیت کو پہچانا، اور پھر محنت اور مشق کے ذریعے اسے نکھارنے میں جٹ گیا۔۔۔

اور سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی!


​حواشی:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

(1) بخاری و مسلم۔

(2) البیان والتبيین، جاحظ۔

(3) مضمون کے آخری سطور میں عائض القرنی کی کتاب "لا تحزن" (غم نہ کریں) سے استفادہ کیا گیا ہے۔


 (نوٹ : ترجمہ میں AI سے جزوی مدد لی گئی ہے)

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

العلامة السيد سليمان الندوي

سلام على صاحب التضحية الكبرى

كان الوستانوي أمة وحده